تمباکونوشی کا بحران : فیصلہ کن اقدامات ناگزیر

مضمون کے مطابق پاکستان میں تمباکونوشی کے خلاف کئی اقدامات کے باوجود مسئلہ اب بھی سنگین ہے۔ ملک میں لاکھوں افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور تمباکو کا استعمال صحت، معیشت اور ماحول پر مسلسل بوجھ ڈال رہا ہے۔

تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔ اس کے ساتھ ای سگریٹ اور نکوٹین پاؤچز جیسی متبادل مصنوعات کے استعمال سے متعلق واضح پالیسی اور قواعد کی کمی بھی ابہام پیدا کر رہی ہے۔

تمباکونوشی سے علاج کے اخراجات، قبل از وقت اموات اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ گھریلو سطح پر بھی تمباکو پر خرچ ہونے والی رقم خوراک، تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی ضروریات سے کم ہو سکتی ہے۔

بہت سے سگریٹ نوش افراد اپنی عادت چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن مناسب مدد اور سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتے۔ پاکستان میں منظم ترکِ تمباکونوشی پروگرام، مشاورت، نکوٹین متبادل علاج اور رہنمائی کی سہولتیں محدود ہیں۔

مضمون میں وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر سگریٹ چھوڑنے کی سہولتیں بڑھانے اور ڈاکٹروں سمیت طبی ماہرین کو اس عمل میں مؤثر کردار دینے پر زور دیا گیا ہے۔

English Summary

The article examines Pakistan’s continuing smoking crisis, including cigarette production, weak enforcement of tobacco control laws, the economic and environmental burden of smoking and limited cessation services.

It also highlights the lack of clear regulation for alternative tobacco products and calls for stronger support for adult smokers who want to quit.

The article argues that accessible cessation programmes, counselling, nicotine replacement therapies and greater involvement of doctors can help reduce smoking prevalence in Pakistan.

اہم اردو نکات

  • پاکستان میں تمباکونوشی اب بھی صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔
  • تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔
  • ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز اور دوسری متبادل مصنوعات کے لیے واضح پالیسی اور قواعد کی ضرورت ہے۔
  • سگریٹ نوشی صحت، معیشت، خاندان اور ماحول پر بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔
  • بہت سے سگریٹ نوش افراد اپنی عادت چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کامیابی کی شرح کم ہے۔
  • پاکستان میں منظم ترکِ تمباکونوشی پروگرام اور مشاورت کی سہولتیں محدود ہیں۔
  • نکوٹین متبادل علاج سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افراد کی مدد کر سکتا ہے۔
  • ڈاکٹر اور دوسرے طبی ماہرین تمباکونوشی ترک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

English Key Points

  • Pakistan continues to face a serious smoking-related public health burden.
  • Tobacco control laws exist, but implementation remains weak.
  • Clear policies are needed for e-cigarettes, nicotine pouches and other alternative products.
  • Smoking creates major health, economic and environmental costs.
  • Many smokers try to quit, but successful quitting remains low.
  • Accessible cessation programmes and counselling are limited in Pakistan.
  • Nicotine replacement therapies can support smokers trying to quit.
  • Doctors and other health professionals can play an important role in smoking cessation.

Why This Matters

پاکستان میں سگریٹ نوشی صرف انفرادی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات خاندان، معیشت، صحت کے نظام اور ماحول تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے تمباکونوشی کی شرح کم کرنے کے لیے قوانین کے ساتھ عملی مدد بھی ضروری ہے۔

Public Health Relevance

تمباکونوشی کینسر، امراض قلب، فالج اور دوسری غیر متعدی بیماریوں کے خطرات بڑھاتی ہے۔ بالغ سگریٹ نوش افراد کو مؤثر طریقے سے عادت چھوڑنے میں مدد دینا بیماریوں اور قبل از وقت اموات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Policy Relevance

تمباکو کنٹرول کے موجودہ قوانین پر بہتر عمل درآمد، متبادل تمباکو مصنوعات کے لیے واضح ضابطے اور وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر ترکِ تمباکونوشی کی سہولتوں میں اضافہ ضروری ہے۔ طبی ماہرین کو بھی ان کوششوں کا فعال حصہ بنایا جانا چاہیے۔

About This Explainer

یہ وضاحتی مواد فراہم کیے گئے ARI کے اردو مضمون پر مبنی ہے۔ اصل مضمون کا مکمل متن بغیر تبدیلی کے محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ خلاصے اور اہم نکات عام قارئین کے لیے سادہ اور واضح زبان میں تیار کیے گئے ہیں۔

مکمل اردو مضمون

میں تقریبًا 94 ارب 32 کروڑ 80 لاکھ سگریٹ تیار کیے گئے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سگریٹ نوش کے لیے 2024پاکستان میں سالانہ اوسطًا 6738 سگریٹ آتے ہیں۔ یہ تقریبًا 337 پیکٹ بنتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک تشویش ناک صورتِ حال ہے، جہاں تمباکونوشوں کی تعداد 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں تقریبًا 1 کروڑ 40 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انسداد تمباکونوشی کے سلسلےمیں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باوجود، یہ پاکستان میں صحتِ عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان نے 1997 میں تمباکو اور سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی عائد کی جو اس سمت میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس وقت لاہور ہائی کورٹ نے الیکٹرانک میڈیا اور ٹیلی ویژن پر سگریٹ اور تمباکو کے اشتہارات کو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقِ زندگی کے خلاف یا اس سے متصادم قرار دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے نے انسداد تمباکونوشی کے اقدامات میں پیش رفت کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد پاکستان نے 2002میں تمباکونوشی کے خاتمے سے متعلق ایک آرڈیننس پاس متعارف کرایا اور پھر 2005 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کی توثیق کی۔

گزشتہ تین دہائیوں کے ان اقدامات کے بعد اب تمباکونوشی کی شرح میں کمی رپورٹ ہونے لگی ہے۔ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو کنٹرول (جی اے ٹی ایس) 2024 کے مطابق پاکستان میں 2014 کے مقابلے میں تمباکونوشی کی شرح میں کمی آئی ہے۔گو کہ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے مگر اس کے باوجود پاکستان میں تمباکونوشی آج بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے مناسب قانون سازی نہیں ہو سکی جب کہ انسد اد تمباکونوشی سے متعلق موجود قواعد و ضوابط پر عمل درآمد بھی انتہائی کمزور ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران تمباکو کی متبادل مصنوعات متعارف ہوئی ہیں جن میں الیکٹرانک سگریٹ اور نکوٹین پاؤچز و دیگر شامل ہیں۔مسئلہ مگر یہ ہے کہ ان متبادل مصنوعات کے استعمال سے متعلق واضح پالیسی اورقواعد و ضوابط کا بھی فقدان ہے جس کے باعث صورتِ حال واضح ہونے کے بجائے مزید ابہام کا شکار ہے۔

ٹوبیکو اٹلس کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران 147283 افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جب کہ تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں اور اموات سے قومی خزانے کو سالانہ تقریبًا 483 ارب روپے کا نقصان پہنچتاہے۔ ان اخراجات میں صحت کی سہولیات پر براہِ راست ہونے والے اخراجات کے علاوہ تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے باعث پیداواری صلاحیت میں کمی سے پیدا ہونے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔ یہ صورتِ حال ملک کی صحتِ عامہ اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ تمباکو کے استعمال پر ہونے والے اخراجات کے لیے گھریلو بجٹ کے ان وسائل کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے جو خاندانوں کو غربت سے نکالنے میں مدد دے سکتے ہیں اور جنہیں بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک سگریٹ نوش مقبول ترین برانڈ کے 100 پیکٹ خریدنے کے لیے سالانہ اپنی فی کس مجموعی ملکی پیداوار کا تقریبًا 5.12 فیصد خرچ کرتا ہے۔ دوسری طرف تمباکونوشی کے ماحولیاتی اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال سگریٹ کے تقریبًا 8068 ٹن ٹکڑے مضرصحت کیمیائی فضلے کی صورت میں جمع ہوتے ہیں۔

ایک اور تشویش ناک پہلو غیر متعدی امراض سے متعلق ہے۔حال ہی میں قومی اسمبلی کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ تمباکو کا استعمال غیر متعدی امراض میں اضافے کا ایک بڑا خطرہ ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ غیر صحت بخش غذائی عادات، بالخصوص انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں اور شکر ملے مشروبات کازیادہ استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، تمباکو کا استعمال اور موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان غیر متعدی امراض میں اضافے کے بڑے عوامل ہیں۔

بالغ سگریٹ نوشوں کو اپنی یہ عادت ترک کرنے میں مدد اور معاونت کی ضرورت ہے۔ ان تمباکونوشوں کو مدد کی زیادہ ضرورت ہے جو کئی بار کوشش کرنے کے باجود بھی اپنی سگریٹ نوشی چھوڑنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریبًا 25 فیصد تمباکو نوش اپنی اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان میں سے تین فیصد سے بھی کم اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں۔

امریکہ کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق تمباکونوشی ترک کرنےسے کینسر اور دیگر خطرناک بیماریوں کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تمباکونوش ترک کرنے میں مختلف خدمات و سہولیات کے ذریعے تمباکونوشوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ ان خدمات و سہولیات میں کونلسنگ، رویے میں تبدیلی لانے کی تھراپی، دوائی اور نکوٹین کی متبادل مصنوعات جن میں نکوٹین پیچز، گم، لوزنجز اور سپرے شامل ہیں۔

ہر تمباکونوش زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنی اس عادت کو چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے۔ اس موقع پر ایک تمباکونوش کو مقامی سطح پر تمباکونوشی ترک کرنے کے پروگراموں کے بارے میں معلومات اور ان تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ پاکستان میں تمباکونوشی ترک کرنے کے منظم پروگراموں اورکونسلنگ کی خدمات کا فقدان پایا جاتا ہے جب کہ نکوٹین ریپلیسنٹ تھراپیز (این آر ٹیز)تک رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔ سرکاری ہسپتال شاذ و نادر ہی تمباکونوشی ترک کرنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں جب کہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی یہ سہولیات اکثر مہنگی ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ تمباکونوشی ترک کرنے کے طریقوں کے بارے میں آگہی کی کمی اور حکومت کی جانب سے کم فنڈنگ اس مسئلے کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ ملک میں شواہد پر مبنی طریقوں کے بارے میں لوگوں کی آگہی کے لیے ہیلپ لائنز اور پیشہ وارانہ کونلسنگ کی سہولیات نہ ہونے کے سبب تمباکونوشی چھوڑنے کی شرح مزید کم ہو جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر تمباکونوشی ترک کرنے کے پروگرام شروع کیے جائیں اور نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی اور کونسلنگ کو ان کا حصہ بنایا جائے تاکہ ان بالغ تمباکونوشوں کی مدد کی جا سکے جو اپنی اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین صحت، خصوصی طور پر ڈاکٹروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ڈاکٹروں کوتمباکونوشی کے نقصانات میں کمی( ٹوبیکو ہارم ریڈکشن ) کے تصور سے آگاہ کیا جائے اور انہیں ان کوششوں کا حصہ بنایا جائے جن کا مقصد اس تصور کو اجاگر کرکےیہ واضح کرنا ہے کہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن ملک میں تمباکونوشی کی شرح کو کم کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Understand This Urdu Article with AI

Choose one quick option below. The AI will explain this Urdu article using the saved summary, key points, and article information where available.

English Options

اردو آپشنز

AI Disclaimer

This feature helps readers understand ARI Urdu articles in simple language. AI-generated responses may be incomplete or limited. For original information, please use the saved article text or the external source link where available.

Our Projects

Pakistan Alliance for Nicotine and Tobacco Harm Reduction promotes innovative solutions for smoking cessation and harm reduction.

Our Publications

Explore ARI publications, reports, and explainers on tobacco control, public health, smoking cessation, and harm reduction.

Research Articles

Read research-based articles and analysis on safer nicotine, tobacco harm reduction, public health, and policy issues.

What We Do?

ARI provides research-based solutions in health, education, governance, culture, monitoring, evaluation, and outreach.