پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری کوششیں ابھی بھی مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔ اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ صحت عامہ کے تحفظ کے لئے جامع حکمت عملی اور سہولیات کی ضرورت ہے۔
تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے موثر پالیسیاں، آگاہی مہمات اور مدد فراہم کرنے والی خدمات کا قیام ضروری ہے۔
This article highlights the ongoing challenges in controlling tobacco use in Pakistan despite awareness campaigns. It emphasizes the need for comprehensive strategies and supportive infrastructure to help individuals quit smoking.
Effective policies, public awareness, and accessible cessation services are crucial to reduce tobacco-related health issues and save lives in Pakistan.
Controlling tobacco use is crucial for improving public health and reducing preventable diseases and deaths caused by smoking-related illnesses.
Reducing tobacco consumption can significantly decrease the burden of chronic diseases such as cancer, heart disease, and respiratory illnesses, thereby improving overall community health.
Implementing and enforcing effective tobacco control policies is essential for creating healthier environments and reducing the societal costs associated with tobacco-related health issues.
This is an easy explainer based on the available Urdu article information, designed to inform readers about the importance of tobacco control measures in Pakistan and the necessary steps to achieve a tobacco-free society.
پاکستان میں کئی دہائیوں تک انسداد تمباکونوشی کی کوششوں کے باوجود تمباکو کا استعمال صحت عامہ کو لاحق خطرات میں سے بدستور ایک خطرہ ہے۔ گو کہ آگاہی مہمات نے تمباکو کے استعمال کے خطرات کو کامیابی کے ساتھ اُجاگر کیا ہے مگر قوانین پر عمل درآمد کے فقدان اور تمباکونوشی ترک کرنے میں کارآمد خدمات و سہولیات سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے ملک میں تمباکو کے استعمال کا پھیلاؤ پریشان کن حد تک بڑھا ہے۔
پاکستان کا شمار ان 15 ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں تمباکونوشوں کی تعداد تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد بالغ افراد اور 55 فیصد بچے روزانہ کی بنیاد پر سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ سیکنڈ ہینڈ سموکنگ سے مراد یہ ہے کہ تمباکو کا استعمال نہ کرنے والے افراد دوسروں کے سگریٹ پینے سے مضر صحت مادوں کا شکار ہوں۔
تمباکو نوشی صحت کیلئے بہت زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ یہ کینسر، زیابیطس، ٹی بی، دائمی کھانسی، پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کو لاحق کرنے کا سبب بنتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال سے ایک سال کے دوران 80 لاکھ سے زیادہ جبکہ سیکنڈ ہینڈ سموکنگ سے 12 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ایک سال میں ہونے والی اموات کی تعداد فی 100,000 افراد میں 91.1 ہے جو کہ جنوبی ایشیائی اور عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں ٹوبیکو کنٹرول کا سفر 1997 میں الیکٹرانک میڈیا پر تمباکو کے اشتہارات پر پابندی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد پاکستان نے ٹوبیکو کنٹرول پر عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن (ایف سی ٹی سی) کی توثیق کی اور تمباکونوشی پر قابو پانے کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے جن میں سگریٹ کے پیکٹ پر صحت سے متعلق تصویری انتباہات، تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ، اور عوامی مقامات سمیت تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ نوشی پر پابندی شامل ہیں۔
یہ اہم اقدامات ہیں مگر ان پر عمل درآمد کا فقدان ہے جس کی وجہ سے تمباکو مصنوعات کی غیر قانونی تجارت پروان چڑھ رہی ہے، تصویری انتباہات کی شرائط پوری نہیں کی جارہی ہیں اور پابندی کے باوجود کھلے سگریٹ کی فروخت بھی بدستور جاری ہے۔ تمباکو مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صارفین کو سستے برانڈز کے استعمال پر منتقل کر دیا ہے جس سے تمباکو کے استعمال کے روک تھام کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کیلئے مدد کے مناسب نظام کا فقدان ہے جو ٹوبیکو کنٹرول کی کوششوں کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ اگر تمباکونوش اپنی اس عادت پر قابو نے کی کوشش بھی کریں تو ان میں سے بیشتر افراد کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کے قومی مراکز، رعایتی کونسلنگ یا تربیت یافتہ ماہرین صحت کی رہنمائی جیسی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ عوام کی آگہی کیلئے جو مہمات چلائی جاتی ہیں، ان میں شاذ و نادر ہی ایک قابل عمل راستے کے طور پر ترک کرنے کی کوشش کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ماہرین صحت سے صلاح مشورہ لیا جاتا ہے تو وہ بھی خال خال ہی تمباکونوشی ترک کرنے کے بارے میں رہنمائی یا دوائی استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ سگریٹ نوشی کو بُرا سمجھنے کے ساتھ ساتھ تمباکونوشوں سے بھی فاصلہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں بُرا سمجھتے ہیں۔ اس سے سگریٹ نوشی ترک کرنے کیلئے مدد لینے میں تمباکونوشوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ اپنی اس عادت پر قابو پانے کیلئے کسی سے مدد لینے یا اس سلسلے میں بات کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔پاکستان میں ایسے تمباکونوش بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو گھر والوں سے چُپکے سگریٹ پیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کُھل کر اس سلسلے میں بات کرنے یا مدد طلب کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔
تمباکو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے مگر یہ مسئلہ ٹوبیکو کنٹرول کے پورے نظام میں اصلاحات کا متقاضی ہے۔ پاکستان کو تمباکونوشی کے مکمل خاتمے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اہم ہیں:
تمباکو کا استعمال محض طرز زندگی کا انتخاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک پیچیدہ عادت ہے جس پر قابو پانے کیلئے معاون انفراسٹرکچر اور ہمدردانہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ اگر تعزیری قوانین کی بجائے شواہد پر مبنی اقدامات پر توجہ دی جائے تو پاکستان تمباکو کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں اور اموات میں ڈرامائی طور پر کمی لا سکتا ہے۔
یہ عمل کرنے کا وقت ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمباکو نوشی کی روک تھام کو اب پالیسی سطح پر بات چیت تک محدود رکھنے کی بجائے صحت عامہ کی حکمت عملی کا محور بنا یا جائے۔ اس سے تمباکونوشی ترک کرنا ممکن ہی نہیں یقینی بن جائے گا۔
Choose one quick option below. The AI will explain this Urdu article using the saved summary, key points, and article information where available.
This feature helps readers understand ARI Urdu articles in simple language. AI-generated responses may be incomplete or limited. For original information, please use the saved article text or the external source link where available.
Pakistan Alliance for Nicotine and Tobacco Harm Reduction promotes innovative solutions for smoking cessation and harm reduction.
Explore ARI publications, reports, and explainers on tobacco control, public health, smoking cessation, and harm reduction.
Read research-based articles and analysis on safer nicotine, tobacco harm reduction, public health, and policy issues.
ARI provides research-based solutions in health, education, governance, culture, monitoring, evaluation, and outreach.