یہ مضمون بتاتا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن سگریٹ چھوڑنے کی مؤثر سہولتیں اب بھی نظام کا ایک بڑا کمزور حصہ ہیں۔
ہر سال محدود تعداد میں تمباکو نوش افراد سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور تین فیصد سے بھی کم کامیاب ہوتے ہیں۔ بہت سے افراد کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں مناسب مدد کہاں سے مل سکتی ہے۔
مضمون میں قومی ترکِ تمباکو نوشی پروگرام، سرکاری اسپتالوں میں خصوصی مراکز، طبی عملے کی تربیت، سستی نکوٹین متبادل تھراپی اور معمول کے طبی معائنے کے ساتھ سگریٹ چھوڑنے کی مشاورت کی سفارش کی گئی ہے۔
This article explains that Pakistan has taken several tobacco control measures, but smoking cessation services remain a major missing part of the system.
Only a limited number of smokers attempt to quit each year, and fewer than three percent successfully stop smoking. Many smokers are also unaware of where they can receive proper help.
The article recommends a national cessation programme, smoking cessation centres in public hospitals, trained healthcare workers, affordable nicotine replacement therapy, and counselling as part of routine healthcare.
This article matters because many smokers want to quit but do not have clear information or easy access to professional support. Practical cessation services can help turn quit attempts into successful quitting.
Accessible cessation services can help reduce smoking-related disease, protect families from secondhand smoke, and reduce the long-term health burden of smoking in Pakistan.
The article supports a nationwide cessation strategy, government-supported clinics, healthcare training, affordable treatment, and greater attention to Article 14 of the FCTC.
This explainer is based on the supplied Urdu internal article. The complete Urdu article text is kept as provided in the document, while the summaries and key points are written in simple and natural language for readers in Pakistan.
تحریر: جنید علی خان
تمباکو نوشی دنیا بھر میں ان اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ اس کے مُضِر صحت اثرات کے بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی ہونے کے باوجود، پاکستان جیسے ملک میں تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تمباکو نوشی سے ہر سال دنیا بھر میں 80 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں ، جن میں تقریباً 12 لاکھ ایسے غیر تمباکو نوش بھی شامل ہیں جو دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے جن میں کینسر، ذیابیطس، سانس اور دل کی بیماریاں شامل ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق طویل عرصے تک سگریٹ پینے والے 50 فیصد افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی تقریباً پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ترکِ تمباکونوشی کو ٹوبیکو کنٹرول کی کوششوں کا ایک لازمی حصہ بنا یا گیا ہے۔ اب ترکِ تمباکونوشی کی سہولیات تک رسائی کو بنیادی انسانی حق قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان نے 2005 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کی توثیق کی مگر دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی ملک میں ترکِ تمباکونوشی کی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر سال صرف 25 فیصد سگریٹ نوش اپنی اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان میں کامیابی کی شرح تین فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان نے ایف سی ٹی سی کی توثیق کے بعد تمباکونوشوں کی سگریٹ تک رسائی کو کم کرنے پر زیادہ توجہ دی مگر اس میں بھی اسے بُری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے 2009 میں سگریٹ کی ڈبیوں پرلوگوں کی آگہی کے لیے تصویری وارننگز چسپاں کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور تب سے یہ انتباہی پیغامات وقتاً فوقتاً اپڈیٹ بھی جاتی ہیں۔ اس وقت سگریٹ کی ڈبیوں کے فرنٹ اور بیک سائیڈ کے 60 فیصد حصے پر یہ وارننگز شائع کی جارہی ہیں جب کہ ہدف یہ ہے کہ یہ وارننگز80 فیصد حصے پر شائع کی جائیں۔
اسی طرح حکومت نے تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے حکومت نے سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات پر ٹیکس بڑھا ئے ہیں۔ مالی سال میں 2022 -2023 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ تاہم، مہنگے سے لے کر عام برانڈز کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سگریٹ نوشوں نے سستی برانڈز ااستعمال کرنا شروع کر دیں اور کھلے سگریٹ خریدنے لگے۔ حالاں کہ کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد ہے۔ تعلیمی اداروں کے 50 میٹر کے دائرے میں بھی تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی ہے مگر اس پر بھی عملدرآمد کمزور ہے۔
یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود تمباکونوشی کے خاتمے کی کوششوں میں ایک پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ پہلو تركِ تمباکونوشی کی سہولیات کی فراہمی کا ہے۔ پاکستان میں حکومت کی سرپرستی میں ایسی خدمات و سہولیات کی فراہمی کا کوئی قومی پروگرام موجود نہیں ہے۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ بیشتر سگریٹ نوش ترک ِ تمباكونوشی کی مؤثر سہولیات کی دستیابی اور ان کی اہمیت سے بے خبر ہیں ۔ تمباکونوشی سے متعلق آگاہی پروگراموں میں بھی شاذ و نادر ہی یہ پہلو موضوع بحث آتا ہے۔ ان پروگراموں میں زیادہ تر توجہ تمباکو کے استعمال کے نقصانات پر مرکوز رہتی ہے۔ اس رویے کے باعث ایسی سہولتوں کی طلب محدود رہتی ہے اور سگریٹ نوشوں کے پاس نہ تو حوصلہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ علم کہ وہ کس طرح اپنی اس عادت کو چھوڑ سکتے ہیں۔
تمباکو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے۔ تاہم، اس کے لیے ہمیں سگریٹ نوشوں کو سننا ہوگا۔ انہیں تمباکو سے پاک مستقبل کی کوششوں کا حصہ ہونا چاہیےکیوں کہ ان کی شمولیت سے یہ بات جاننے میں مدد ملے گی کہ انہیں تمباکونوشی ترک کرنے میں یا کم نقصان دہ متبادل مصنوعات اختیار کرنے کے لیے کس قسم کی مدد درکار ہے۔ حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی تمام پالیسیوں میں سگریٹ نوشوں کی رائے اور ضروریات کو ایف سی ٹی سی کے آرٹیکل 14 کے مطابق اہمیت دی جانی چاہیے۔
ایف سی ٹی سی کے آرٹیکل 14 کے مطابق یہ ضروری ہے کہ ہر ملک ترك ِتمباکونوشی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات اُٹھائے اور تمباکو کے استعمال پر انحصار کے علاج کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرے۔ مختصراً، یہ حکومتوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ سائنسی شواہد پر مبنی جامع رہنما اصول تیار کریں اور تمباکونوشی ترک کرنے میں معاون سہولتوں کو صحت کے قومی نظام کا حصہ بنائیں۔
پاکستان میں ترک تمباکونوشی کی قومی پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر صوبے کے اضلاع کے سارے سرکاری ہسپتالوں میں تمباکونوشی ترک کرنے کے مراکز بنائے جائیں اور طبی عملے کو ان سہولتوں اور کونسلنگ کے سلسلے میں تربیت فراہم کی جائے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان سہولتوں اور نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی کی مفت یا سستے داموں فراہمی کو یقینی بنایا جائے جب کہ سگریٹ نوشی چھوڑنے سے متعلق رہنمائی کو معمول میں صحت کے معائنے کا حصہ بنا یا جائے۔
Choose one quick option below. The AI will explain this Urdu article using the saved summary, key points, and article information where available.
This feature helps readers understand ARI Urdu articles in simple language. AI-generated responses may be incomplete or limited. For original information, please use the saved article text or the external source link where available.
Pakistan Alliance for Nicotine and Tobacco Harm Reduction promotes innovative solutions for smoking cessation and harm reduction.
Explore ARI publications, reports, and explainers on tobacco control, public health, smoking cessation, and harm reduction.
Read research-based articles and analysis on safer nicotine, tobacco harm reduction, public health, and policy issues.
ARI provides research-based solutions in health, education, governance, culture, monitoring, evaluation, and outreach.