یہ مضمون بتاتا ہے کہ ایف سی ٹی سی کی توثیق کے تقریباً دو دہائیوں بعد بھی پاکستان میں تمباکو نوشی صحت عامہ کا بڑا مسئلہ ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ملک میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ سے 3 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
مضمون میں سگریٹ نوشی، سیکنڈ ہینڈ سموک اور تمباکو سے ہونے والی بیماریوں کے اثرات بیان کیے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے MPOWER فریم ورک کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی کو ملی جلی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ قانون موجود ہونے کے باوجود عمل درآمد اور جائزے کا نظام کمزور ہے۔
مضمون کا اہم پیغام یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو تمباکو کنٹرول میں زیادہ سنجیدہ اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ 2002 کے پرانے آرڈیننس پر انحصار کرنے کے بجائے صوبوں کو مضبوط اور مؤثر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔
This Urdu article reviews Pakistan’s tobacco control performance around two decades after ratification of the FCTC. It says tobacco use remains a major public health problem and different estimates place the number of tobacco users between 23 million and more than 31 million.
The article highlights the health burden of smoking and secondhand smoke. It also reviews Pakistan’s performance under the WHO MPOWER framework and describes the overall result as mixed because national laws exist but implementation and evaluation remain weak.
A key message is that provincial governments need to take tobacco control more seriously. The article calls for stronger provincial legislation instead of continued reliance on the older 2002 ordinance.
This article matters because tobacco use and secondhand smoke continue to affect millions of people in Pakistan. Weak enforcement can reduce the impact of laws that are already in place.
The article is relevant to public health because it links tobacco use with major diseases and highlights widespread exposure to secondhand smoke among adults and children.
The article calls for stronger provincial tobacco control laws, better implementation, and a more coordinated national approach instead of relying mainly on the older 2002 ordinance.
This explainer is based on the supplied Urdu article by Junaid Ali Khan. The full Urdu article text is kept as provided in the document, while the summaries and key points are written in simple language.
تحریر: جنید علی خان
پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول(ایف سی ٹی سی)کی توثیق کو دو دہائیاں گزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود ملک میں انسداد تمباکونوشی کے خلاف جدوجہد ایک د وراہے پرکھڑی ہے۔پاکستان میں تمباکو نوشی کے مُضر صحت اثرات سے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔اس وقت ملک کو بڑھتے ہوئے کینسر، دل کی بیماریوں اور منہ کی صحت و دیگر امراض کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
تمباکو نوشی پاکستان میں عوامی صحت کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد تمباکو کی مختلف مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور یہ عادت ہر سال ایسی ہزاروں اموات کا سبب بنتی ہے جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ تمباکونوشی نہ صرف تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے والے افراد کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ یہ خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق پاکستان میں تمباکونوشوں کی تعداد 3 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ان 3 کروڑ 10 لاکھ تمباکو نوشوں میں سے نصف سے زیادہ افرادسگریٹ نوش ہیں جب کہ مختلف علاقوں اور طبقات میں 1 کروڑ سے زیادہ افراد بیڑی، پان، گٹکا اور نسوار استعمال کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی دل کی بیماریوں، فالج، کینسر، پھیپھڑوں کے امراض اورخواتین میں حمل کے دوران پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔ سیکنڈ ہینڈ سموک (ا س سے مراد سگریٹ کے دھوئیں سے اردگرد موجود غیر تمباکونوش افراد کا متاثر ہونا ہے) بچوں اور بزرگوں کی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ لوگ تمباکو کی مصنوعات پر گھریلو ضروریات کے لیے مختص آمدنی بھی خرچ کرتے ہیں، یوں ان کے خاندانوں کی روزمرہ زندگی بھی تمباکونوشی سے متاثر ہوجاتی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق پاکستان ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد بالغ افراد اور 55 فیصد بچے باقاعدگی سے سیکنڈ ہینڈ سموک کا شکار ہیں۔ صحت پر اس کے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ تمباکو نوشی کینسر، ذیابیطس، تپ دق، دل، سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں ہر سال 80 لاکھ سے زیادہ اموات ہوتی ہیں جن میں 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ سموک کے سبب ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی سالانہ اموات کی شرح91.1 فی ایک لاکھ افراد ہے جو جنوبی ایشیا اور عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے تمباکونوشی کی وبا پر 2023 میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی ٹی سی پر عمل درآمداور انویسٹمنٹ کیس یا این سی ڈی پر بھی ادارے کی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ ان تینوں رپورٹوں کی روشنی میں پاکستان کی انسداد تمباکونوشی کے اقدامات کا جائزہ اور کارکردگی کوجانچنا مفید ہوگا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ جریدے ”بی ایم جے“میں شائع ہونے والے INDEX کو دیکھا جائے جس میں شامل عوامل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹوبیکو کنٹرول کی کوششوں میں پائیداری پیدا کرنے کے لیے اہم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک ایم پاور (MPOWER) کو اپنانے کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔ اگرچہ ملک میں قومی سطح پر انسداد تمباکونوشی کا قانون موجود ہے اور قومی صحت سے متعلق پالیسی میں بھی ٹوبیکو کنٹرول کو شامل کیا گیا ہے لیکن اب بھی انسداد تمباکونوشی کی قومی پالیسی موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی بدقسمتی ہے کہ پالیسیوں کے نفاذ کے جائزے لینے کے لیے بھی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔یہ حالات ایک منتشر اور غیر مربوط حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ موجودہ قوانین پر عملدرآمد بھی کمزور ہے۔
صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتیں تمباکونوشی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔ کسی بھی صوبے نے ٹوبیکو کنٹرول سے متعلق جامع قانون سازی نہیں کی۔ صوبوں کو چاہیے کہ وہ 2002 کے فرسودہ آرڈیننس کے بجائے مضبوط اور مؤثر قوانین متعارف کرائیں تاکہ تمباکو کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
Choose one quick option below. The AI will explain this Urdu article using the saved summary, key points, and article information where available.
This feature helps readers understand ARI Urdu articles in simple language. AI-generated responses may be incomplete or limited. For original information, please use the saved article text or the external source link where available.
Pakistan Alliance for Nicotine and Tobacco Harm Reduction promotes innovative solutions for smoking cessation and harm reduction.
Explore ARI publications, reports, and explainers on tobacco control, public health, smoking cessation, and harm reduction.
Read research-based articles and analysis on safer nicotine, tobacco harm reduction, public health, and policy issues.
ARI provides research-based solutions in health, education, governance, culture, monitoring, evaluation, and outreach.